ہفتہ 15 اگست 2026 - 07:28
وطن کی مٹی گواہ رہنا!

حوزہ/اس درخت کے بیج کو بونے کے لیے بہترین باغبانوں نے زرخیز زمین کا انتخاب کیا اور بہت ناز و محبت سے اسے پروان چڑھایا۔ اب اس بیج سے نکلنے والے پودے کو تناور شجر تک پہنچا کر انسانیت کے لیے سایہ فگن بنانا نسلِ نو کے ذمے ہے۔

تحریر: شازیہ بتول

حوزہ نیوز ایجنسی|

سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبریں سنتے سنتے آج آزادی کا دن آ پہنچا تو دل پر ایک عجیب سی سنگینی محسوس ہونے لگی۔ کچھ دیر کے لیے اپنے ذہن کو 1947ء کی جانب لے گئی تو ہر طرف ایک خوبصورت سماں نظر آیا۔ رہنماؤں کی دیانت داری سے لے کر عوام کی خودداری تک، معاشرے کے امن و سکون سے لے کر عزتوں کے محفوظ ہونے تک، ہر منظر کو وہاں عروج پر دیکھا۔ لیکن معمولی سی ذہنی حرکت مجھے 2026ء کے پاکستان میں واپس لے آئی، جہاں مسندِ اقتدار پر شان و شوکت سے بیٹھے لوگوں کی غفلت نے میرے دل کو توڑ دیا، تو کہیں عوام الناس کی بدحالی نے میرے سکون پر وار کیا۔ میں نے اپنے وطن میں عزتوں کو نیلام ہوتے دیکھا، چھوٹی چھوٹی بچیوں پر ظلم کی انتہا دیکھی، گویا یہ سب کچھ میرے ہم وطنوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ میں نے عوام الناس کو ان تمام صورتِ حال پر خاموشی کے دلدل میں غرق پایا۔ ان تمام مناظر نے میرے وجود کو بری طرح لرزا دیا۔

آج کا دن 14 اگست 1947ء کی یاد دلاتا ہے؛ وہ دن جب مسلمانوں کو خداوندِ متعال کی طرف سے ایسا تحفہ عطا ہوا جس کی بقا اور حفاظت کی ذمہ داری ہم پر سونپی گئی۔ مملکتِ خداداد پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، جسے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال جیسے عظیم رہنماؤں نے حاصل کیا، بلکہ یہ وطن اسلام، قرآن اور الٰہی نظام کی بہترین تجلی کا خواب لیے وجود میں آیا۔ یہ دینِ اسلام اور قرآنی تعلیمات کے سائے میں پروان چڑھنے والا وہ درخت ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی سایہ فگن ہو سکتا ہے۔

اس درخت کے بیج کو بونے کے لیے بہترین باغبانوں نے زرخیز زمین کا انتخاب کیا اور بہت ناز و محبت سے اسے پروان چڑھایا۔ اب اس بیج سے نکلنے والے پودے کو تناور شجر تک پہنچا کر انسانیت کے لیے سایہ فگن بنانا نسلِ نو کے ذمے ہے۔

مملکتِ خداداد پاکستان کے قیام اور آزادی کے لیے ہمارے رہنماؤں نے مخلصانہ طور پر بے شمار خدمات انجام دیں۔ یہ وہ وطن ہے جس کی مٹی میں ہمارے شہداء کا خون شامل ہے۔ یہ وہ درخت ہے جس کی آبیاری کے لیے جب پانی کی ضرورت پڑی تو لوگوں نے اپنے لہو سے اس کی آبیاری کی اور اسے تناور شجر میں تبدیل کیا۔ اس ملک کی آزادی کے لیے بے شمار جانوں نے قربانیاں پیش کیں، اپنی بہت سی خواہشات کو لگام دی، بہت کچھ برداشت کیا اور بہت کچھ کھویا؛ تب کہیں جا کر ہم اس وطنِ عزیز کو حاصل کر پائے۔

بقولِ رہبرِ شہید، آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی خامنہ ای، مفہوماً: جب ہم پہاڑ کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ممکن ہے راستے میں سختیاں، پریشانیاں، رکاوٹیں، مشکلات، پتھر اور طوفان آئیں، لیکن ہمیں ثابت قدمی سے آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔ اگر راستے میں گر بھی جائیں تو دوبارہ مضبوط اور پختہ عزم و حوصلے کے ساتھ اٹھنا چاہیے اور اپنے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔ تب ہی ہم اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے لیے عاشقوں نے بھی اسی عزم و استقامت کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کیے۔ اس ملک کی آزادی کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو ایک آزاد مملکت حاصل کی۔ انہوں نے اس وطن کی مٹی کو گواہ بنا کر زبانِ حال سے گویا کہا:

"وطن کی مٹی! گواہ رہنا! ہم نے بڑی زحمتوں سے تمہیں حاصل کیا، اپنے بہت سے عزیزوں کو کھونے کے بعد تمہیں پایا، تمہاری آبیاری ہم نے پانی سے نہیں بلکہ اپنے لہو سے کی۔ اے میرے وطن کی مٹی! گواہ رہنا! ہماری آنے والی نسلوں کے وجود کو ہمارے شہداء کے خون کی مہک سے معطر رکھنا، تاکہ وہ ہمیشہ ہماری قربانیوں کو یاد رکھیں، پورے وجود کے ساتھ اس ملک کی حفاظت کریں اور تا قیامت اس وطنِ عزیز کو سربلند و سرفراز رکھیں۔"

لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب آج آزادی کے دن اپنے وطن کی حالت کو دیکھتی ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس دھرتی کا ذرہ ذرہ گویا مجھ سے سوال کرتا ہے: کہاں ہے وہ مہک؟ کہاں ہے وہ تناور درخت؟ کہاں ہیں وہ عزم و ارادے والے عاشق؟ کہاں ہیں وہ قائداعظم، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان جیسے رہنما؟ کہاں ہے وہ مملکتِ خداداد پاکستان؟

آج جب اقتدار پر براجمان حکمرانوں پر نظر پڑتی ہے تو ذہن 1947ء کے رہنماؤں کی یاد میں گردش کرنے لگتا ہے۔ جب وطنِ عزیز پاکستان کے صاحبِ اقتدار لوگوں کی بزدلی، نااہلی اور ملکِ عزیز کے مقاصدِ اصلی سے ان کی لاپروائی و غفلت کو دیکھتے ہیں تو واقعی پورا وجود درد سے بھر جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کی مٹی کا ذرہ ذرہ چیخ چیخ کر کچھ کہنا چاہتا ہے، گویا کسی کی یاد دلانا چاہتا ہے، اپنے اندر سمائے خون کی مہک سونگھنے کی طرف ترغیب دلا رہا ہے، لیکن ہم میں سے ہر ایک اسی خوابِ غفلت کی نیند سو رہا ہے، جس سے بیدار کرنے کے لیے علامہ اقبال نے ایک آزاد وطن کا خواب دیکھا تھا۔

آج آزادی کے اس انمول دن سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی جانب سے شیئر کی جانے والی پوسٹس دیکھ کر بڑی حیرانی ہوتی ہے؛ ایسی حیرانی جس میں درد، تکلیف اور افسوس کی آمیزش ہوتی ہے۔ جس ملک کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ اگر ان احسانات کو گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے، اسی ملک کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کچھ احسان فراموش لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں: "کون سی آزادی؟ کیسی آزادی؟"

تو دل پھٹ سا جاتا ہے، پوری دنیا ویران لگنے لگتی ہے اور آنکھوں میں اشکوں کا سیلاب اُمڈ آتا ہے۔ جس ملک کے لیے قیمتی جانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، جس کی آزادی کے لیے بے پناہ لہو بہایا گیا، جس کی آزادی کے لیے لوگوں نے زندانوں میں اپنی زندگیاں بسر کیں، آج اسی ملک میں بسنے والے عوام فتنوں، سازشوں، بدکاریوں اور مختلف واقعات و مسائل کو دیکھ کر سوال کرتے ہیں: "کون سا آزاد پاکستان؟ ہم کون سی آزادی منائیں؟"

یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی موجودہ حالت کہیں سے بھی اس کے آزاد اور خودمختار ہونے کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، لیکن 14 اگست ہم سب کی آزادی کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہم نے نہ صرف مادی اعتبار سے غلامی سے نجات حاصل کی بلکہ معنوی اعتبار سے بھی اپنے اجتماعی شعور کو آزادی، خودداری اور خودمختاری کی سمت گامزن کرنے کا عزم کیا۔ ہمیں اس دن کو پورے جوش و جذبے کے ساتھ منانا چاہیے۔ یہ دن ہمارے مضبوط ارادوں اور پختہ عزائم کو تقویت بخشتا ہے۔ اس دن کی بدولت ہمیں اپنے کردار، تہذیب اور ثقافت کی ازسرِنو تعمیر کا احساس ہوتا ہے۔ ہمیں اس دن کی قدر و قیمت کو سمجھنا چاہیے۔

آج اگر پاکستان کی یہ حالت ہے تو اس میں اگر 60 فیصد حکومت قصوروار ہے تو 40 فیصد میں ہم اور آپ بھی اس وطن کے ذمہ دار ہیں۔ ہمیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ اپنے بزرگوں کی انتھک محنت، کاوشوں اور قربانیوں کو پیروں تلے روند کر پاکستان کے مدِمقابل کھڑے ہو جائیں اور صرف اپنے ملک پر تنقید کرتے رہیں، ملک چھوڑ کر چلے جانے کی باتیں کریں؟

ایک پاکستانی پاکستان کی آزادی کے دن، پاکستان کے آزاد ہونے پر طنزیہ انداز میں سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آئے اور جب دشمن کوئی مداخلت کرے تو پرچم کا علم بردار بن جائے؛ ایسے رویے اور ایسی حب الوطنی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ جب ایک وطن کے رہنے والے ہی اپنے وطن پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں تو پھر اس وطن کو بیگانوں کے سبّ و شتم کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔

میرے عزیز دوستو!

یہ ملک ہمارا ملک ہے، یہ ہمارا وطن ہے۔ ہمارے بڑوں نے اس کے لیے ہر وہ کام کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ آج مجھے اور آپ کو اپنی پوزیشن متعین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اس وطن کے لیے کیا کیا ہے اور آئندہ کیا کریں گے؟

اس ملک سے محبت، اس وطن سے محبت ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ اس ملک کے نظام سے اختلاف کیجیے، یہ ہمارا حق ہے، لیکن اس ملک سے نہیں، اس سرزمین سے نہیں۔ اگر ہمارے مقتدر لوگ نااہل اور بزدل ہیں اور اس عظیم وطن کے محافظ نہیں بن سکتے تو آئیے، ہم اپنی موجودگی کا ثبوت دیں اور وہ مہک جو اس وطن کی مٹی سے آتی ہے، اس سے دوبارہ اپنے وطن کے ذرے ذرے کو معطر کریں۔

یاد رکھیں! خدا تب تک کسی قوم کے حالات نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔"

14 اگست 2026ء، آزادی کے اس دن، اپنی آزادی کا کامل افتخار کے ساتھ اعتراف کریں۔ ہم سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے اور پاکستان کی طرف بڑھنے والی ہر انگلی کو روکنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

یاد رکھیں! ہمیں پاکستان کی سیاست سے تو اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان سے نہیں۔ ہمیں پاکستان کے نظام سے تو اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان سے نہیں۔

وطن کی مٹی! گواہ رہنا! تمہاری رگوں میں دوڑتے خون میں ہم اپنا خون بھی شامل کریں گے۔ ہم ہمیشہ تمہاری آزادی کے محافظ رہیں گے۔ اپنی ہر صلاحیت، ہر قابلیت، ہر ہنر، حتیٰ کہ اپنی جان بھی صرف تمہارے لیے اور تمہاری خاطر قربان کر دیں گے، ان شاء اللہ۔

خدا کرے میری ارضِ پاک پر اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال

کوئی ملول نہ ہو، کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے

حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha